صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى حَبِیْبِہٖ مُحَمـّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصحْابِہٖ وَ بَارِکْ وَسَلَّمْ
وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکْ
مسلمانوں نے تو اپنے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں اشعار کہے ہی ہیں. آئیے میں آپ کو ھندو ؤں کے خیالات بتاؤں
مسلم ہی نہیں بستہء دامان,,محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،،
رب العزت کا ارشاد گرامی ہے ''ورفعنالک ذکرک ''یعنی اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تمہارے لیئے تمہارے ذکر کو بلند کیا ۔قرآن پاک کی ہی رُوسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کربھیجے گئے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کے صدقے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کفار بھی دنیا کے اندر اجمتاعی عذاب سے محفوظ رہے ۔شان احمد مجتبیٰ فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا کہنا کہ خود رب العزت اور اس کے فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں ۔قرب قیامت میں جب مخلوق او ر کائنیات ختم ہوکر ایک خاموشی طاری ہوجائے گی لیکن ذکر رسول اللہ علیہ وسلم خود اللہ تعالیٰ کی زبانی جاری رہے گا ۔مسلم اہل قلم نے نثر ونظم کے پیرائے میں شان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر زبان میں اظہار کیاہے ۔طرہ یہ ہے قدرت کاملہ نے غیر مسلم نثرنگاروں کی تحقیق وتحریر اور غیر مسلم شعراء کی زبانی محمد الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کروائے رکھا ۔
مشہور متعصب مشتشرق مار گولیتھ Morgaliouth))نے اپنے تمام تر بُحل کے باوجود اپنی کتاب کے دیپاچہ میں لکھا ہے ۔کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح نگاروں کا ایک وسیع سلسلہ ہے ۔جس کا ختم ہونا ممکن ہی نہیں ۔''چونکہ قدرت کاملہ خود نبی کریم کی تعریف کرکے اور انہیں وجہ تخلیق کائنات قرار دے رہی ہے ۔اس لیئے رب العزت کا حسن نظام قابل غو رہے کہ تہذیبی بیراور عناد رکھنے والے اہل قلم سے ان غیر مسلم مورخین ،محققین ،ادباء اور شعراکی تعداد زیادہ ہے ۔جنہوں نے رسالت مآب آفتاب عالمتاب صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں کا برملا اظہار کیاہے ۔رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غیر مسلموں کی
نظم ونثر کی سینکڑوں کتُب موجود ہیں ۔
چند غیر مسلم شعراء کے ایک یا دو اشعار کے زریعہ قدرت کاملہ کی حکمت ''کی جھلک ملاحظہ ہو۔
چاند سورج کوئی ہاتھوں پہ مرے لادے
کونین کی دولت مرے دامن میں چُھپا دے
پھر کالکا پرشاد سے پوچھے کہ تُو کیالے
تو نعلین محمد ﷺکو وہ انکھوں سے لگا لے
(کالکاپرشاد)
مٹائیں ظلمتیں جس نے دکھائی راہ حق جس نے
ہم اس نور خدا اس راہنما کی بات کرتے ہیں
(اودھے ناتھ نشتر)
میں سیس نوائوں چرنن لاگوں نام محمد ۖجسکا ہے شُودر اور ویش کئے سب داخل جس نے پیاروں میں
انند کے گُر سمجھائے گیواور گھٹ گھٹ میں بتلائے گیتھا وہ گیانی لاثانی پر میشرکے اوتاروں میں
(سُندرلال)
ہادی برحق کہوں یاتجھ کو نور معرفت
یا راہ وحدت کا سمجھوں تجھ کو سچا رہنما
آج تیر ی قوم پر افسوس آتا ہے مجھے
فرقہ بندی نے جسے زنجیر در پا کردیا
(گنیش لال خستہ )
آپ ﷺکی تعریف کوئی کیا کرے
آپﷺکی تعریف ہو سکتی نہیں
(رشی بٹالوی )
سکھ پیشواء گورونک کے ایک حسابی نکتہ نظر اور کلیہ علم الاعداد کی روشنی میں حضور اکرم کی آفاقی عظمت کے اظہار کیلئے یہ اشعار پڑھیے ۔
عدد گنو جس انچھر کے کرو چوگناتا دو ملائیو ، پنج گُن کیجیو کاٹو بیس بنا
نانک بچے تو نُو گنے دو اس میں اور ملا
اس بدھر کے نام سے محمد ۖﷺنام بنا
(ترجمہ )
کوئی مکمل عددلین (اس میں کسر نہ ہو) اسے چار سے ضرب دے کر ،حاصل ضرب میں دوجمع کرکے پانچ سے ضرب دیں ۔اوربیس پر تقسیم کیجیے ۔جو عدد باقی بچے اسے نُو سے ضرب دے کردوجمع کیجیے تو ہر بار جواب92(بانوے ) آئے گا ۔بانوے (92)رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی محمد ﷺکا عدد بنتا رہے گا ۔
شریعت اور طریقت اور حقیقت
یہ تینوں ہیں کنیزان محمد ﷺ
فرشتے بھی یہ کہتے ہیں کہ ہم ہیں
غلامان محمد ﷺ غلامان محمد ﷺ
(دلورام کوثری )
پہنچایاہے کس اوج سعادت یہ جہاں کو
پھر رتبُہ ہو کم عرش سے کیوں غار حرا کا
معراج ہو مومن کو نہ کیوں اُس کی زیارت
ہے خُلد بریں روضہ پرُ نور کا خاکہ
(پنڈٹ پرحموہن دتاریہ )
دل کو اگر ہے چاند بنانے کی آرزو
کر اکتساب نور اسی آفتاب سے
ذکر بنی کروں گا تو کہہ دوں گا حشر میں لایا ہوں ارمغاں یہ جہان خراب ہے
(پنڈت بالکمند عرش ملیسانی)
شہنشائے اعظم محمد ۖﷺمحمد ۖﷺ
رسول دو عالم محمد ۖ محمد ﷺ
الہی میرے منہ میں جب تک زبان ہو
زبان پرہو ہر دم محمد ﷺ محمد ﷺ
(دلورام کوثری)
دلورام کے ان رحجانات کے ردعمل میںہندوئوں نے شدید ملامت اور تنگ نظری اور طنعہ زنی سے انہیں زچ کیا۔ لیکن دلورام کوثری نے نعت گوئی ترک نہ کی ۔ رب العزت کے خصوصی کرم سے دلورام نے بالاخر اسلام قبول کر لیا اور نام کوثر علی کوثری رکھا۔
انسانیت ، محبت باہم تمیز ، عقل جو چیز بھی ہے سب سے عنایت رسولﷺ کی
(کنور مہندر سنگھ بیدی سحر)
جمال دو عالم تیری ذات عالی
دوعالم کی رونق تری خوش جمالی
(رانا بھگوان داس)
سائل ہیں اس کے در کے سلاطین باوقار
حاصل ہے جنکو رتبہ دربان مصطفی
(امر چند قیس جالندھری)
کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا۔
(پنڈت ہری چند اختر)
حضرت کی صداقت کی عالم نے گواہی دی
پیغام الہی ہے پیغام محمد ﷺ کا
تصویر حقیقت ہے اک درس محبت کا
ہر بات محمد ۖ کی ہر کام محمد ۖﷺکا
(راجندر بہادر موج )
الہامی کتب کے علاوہ دیگر مذاہب خاص کر عیسائیوں ، یہودیوں اور ہندوئوں کی قدیم مذہبی کتب میںآخری بنی محمد رسولۖ کی آمد بعثت کی پیش گوئیاں موجود ہیں۔ چودہ سال پہلے قرآن اور حدیث میں کائنات کے بارے میں فرمودات ، سائنسی کمالات نے درست ثابت کئے ۔ یوں قریباً 80%فرمودات سائنس کی دنیا تسلیم کر چکی ہے ۔ 20%مثلاً فرشتے ، جنت ، دوزخ وغیرہ ایجادات کی بہتری اور ترقی کے ساتھ ساتھ ثابت ہوتے جائیں گے ۔ یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں بلکہ حکمت ربی اور عظمت رسولۖہے کہ حسابی نظام اور علم الاعداد کی علمی صداقت فخر دو عالم بنی کریم ۖ کے گرد گھومتی نظر آتی ہے ۔ رسولۖ کی مدحت کیلئے چند دیگر غیر مسلم شعراء کا اعتراف حقیقت ملاحظہ ہو۔
نہیں خورشید کو ملتا ترے سائے کا پتہ
کہ بنا نور ازل سے سراپا ترا
(منشی دُرگا سہائے )
توں جان دو عالم نور یزداں یا رسولﷲﷺ
توی سروجود بزم امکاں یا رسولﷲﷺ
جمیل عالم امکاں ، جمال حضرت دوراں
توی حسن دوعالم جان جاناں یا رسولﷲﷺ
(رانا بھگوان داس)
خدا کا وہ نہیں ہوتا خدا اس کا نہیں ہوتا
جسے آتا نہیں ہونا تمہارا یا رسول ﷲﷺ
(چاند بہاری لال صبا)
نیر اعظم بنا ہر ذرہ ریگ عرب
اے محمد ﷺ دیکھ کر روئے منور آپ کا
رام کو چاہیے زمانہ چھوڑ دے پرواہ نہیں
رام سے لیکن نہ چھوٹے گا بنی ﷺدر آپ کا
( لال بیلی رام ، رام کشمیری)
وہ الہ العالمین ، یہ رحمت للعالمین
عشق محبوب خدا ، عشق خدا سے کم نہیں
(پربھودیال لکھنوی)
رونق جو دوجہاں میں ہے شاہ امم سے ہے
ساراظہور آپ ہی کے دم قدم سے ہے
بوبکر و عمر و حیدر تھے چار عناصر ملت کے
کثرت وحدت میں ہے جیسے حال وہ تھا ان چاروں کا
(مہاراجہ سرکشن سرشاد شاد سابق وزیراعظم دولت آصفیہ حیدر آباد)
مبارک پیشوا جسکی ہے شفقت دوست دشمن پر مبارکباد ، پیش روجسکا ہے سینہ پاک کینے سے
(منشی تلوک چند محروم)
بڑے چھوٹوں میں جس نے اک اخوت کی بنا ڈالی زمانے سے تمیز بندہ و آقا مٹا ڈالی
(پروفیسر جگن ناتھ آزاد)
نبی ﷺ ایسا کوئی دنیا میں پیدا
نہ تھا نہ اب ہے اور نہ ہو گا
(گو بند پرشاد فضا)
نگاہوں کا سکہ دلوں پہ مسلط
جمال ﷲﷲ ، جلال ﷲﷲ
(پنڈت بالمکند)
آپ کے پیغام کی بنیاد تھی الہام پر
اک نئی دنیا بسا ڈالی خدا کے نام پر
(منشی یشیشور پرشاد)
قارئین اکرام! جنہیں انگریزی ، ہندی نثر سے دلچسپی ہے انہیں سرولیم ، میوربا سورتھ اسمتھ ، پروفیسر مرسیوسڈیو، الکس لوازن ، کانٹ ،ہنری دی کاسٹری ، پروفیسر ڈوائرلونتے ، رابرٹ ایل گلک ، منٹگمری واٹ، میجر آرتھر کائین لیونارڈ ، ڈاکٹر رابرٹس ، جان جاک ولیک ، سادھوٹی ایل وسواتی ، جارج برنارڈ شاہ، پروفیسر ٹامس کارائل، ڈاکٹر گبن ، مسٹرمارما ڈیوک پکھتاں ، مسٹر والٹر ، مسٹر پی اسکاٹ ، پروفیسر ہٹن سمتھ، مسٹر اینی بینٹ ، ڈاکٹر مورسیس ، پروفیسر پی کے ہیٹی ، گورونانک ، سوامی لکشمن جی کی کتب میں حضور اکرمﷺ کی فکر اور عمل کے تناظر میں تاثرات کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔
آخر پر چند اور غیر مسلم شعراء کے اشعار پڑھئے۔
یہ ذات مقدس تو ہر انسان کی ہے محبوب مسلم ہی نہیں بستہ دامان محمد ﷺ
(ستیش چند طالب لاہوری)
بادہ صر صر میں شمیم راحت افزاء آگئی
وہ مہک تھی شرک و بدعت کی کلی مرجھا گئی
(لالہ چندی پرشاد)
اچھے اچھے اور بھی دیکھے ہیں گلشن دہر میں
گلشن بطحا مگر بے مثل رنگ وبوُ میں ہے
(لالہ چھنو مل ناقد)
دل میں اگر عشق بنی ﷺ ہو تو ہے انسان ، انسان وگرنہ نہ کیا خاک ، اس خاک کی تصویر میں ہے ۔
(منشی لچھمن نرائین)
خال رخسار بنی ﷺ کی کیا صفت تارا لکھے
کہہ نہیں سکتے ہیں ہر گز نافہ تاتار ہم
(لالہ تارا چند تارا)
دست خدا نے کھول کے باب انقلاب کا
سورج کیا طلوع رسالت مآب کا
(جگن ناتھ کمال )
اے باعث صد فخر جہاں شان مدینہ
اے نغمہ سرا بلبل بستان مدینہ
(تیج ونت رائے )
شاہد نہ ہو سکا کبھی مشہود سے الگ
نور خدا نور رسول کریم کا
(پنڈت دلارام رتن)
لکھی گئی دنیا میں ضیاء نور یقین سے
انسان کی تاریخ نہ عنوان محمد ﷺ
(مہر لال سونی)
معلوم ہے کچھ تم کو محمد ﷺکا مقام
وہ امت اسلام میں محدود نہیں
(فراق گھور کھپوری )
مٹائیں ظلمتیں جس نے
ہم اس نور خدا اس رہنماء کی بات کرتے ہیں
(اودھے ناتھ نشتر)
فقط ایک نشترہی کیا مدح خواں ہے
ثناء خوان محمدﷺکا سارا جہاں ہے
(سرداری لال نشتر)(یو این این)
٭٭

Comments
Post a Comment